عراقی پولیس کی مظاہرین پر براہ راست گولیاں ، آنسو گیس فائر

مظاہریں پرشگاف نعرے لگا رہے تھے، “بغداد آزاد ہے ، بدعنوانی ختم ہوچکی ہے۔

بغداد : عراقی پولیس نے بغداد کی سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے جمعہ کے روز ہوائی فائرنگ جبکہ آنسو گیس کے درجنوں شیل براہ راست فائر کئے۔

سیکیورٹی عہدیداروں نے بتایا کہ 30 سے ​​زائد افراد کو سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال لے جایا گیا۔ تنازعات کا آغاز علی الصبح تین ہفتوں کے وقفے کے بعد ، حکومت مخالف مظاہرے دوبارہ شروع ہونے کے بعد شروع ہوا۔ یکم اکتوبر کو بدعنوانی ، بے روزگاری اور بنیادی خدمات کی عدم فراہمی کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا لیکن سیکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کافی دنوں تک زندہ گولہ بارود کا استعمال کیا۔

اس کے بعد یہ احتجاج کئی ، خاص طور پر شیعہ آبادی والے جنوبی صوبوں میں پھیل گیا اور بدامنی کو روکنے کے لئے حکام نے کرفیو نافذ کردیا اور انٹرنیٹ بھی بند کردیا گیا۔

دارالحکومت اور ملک کے جنوبی صوبوں میں ایک ہفتہ کے تشدد کے بعد حکومت کی طرف سے مظاہروں کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی ہے ، جس میں 149 افراد ہلاک اور 3000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے آٹھ ارکان بھی مارے گئے۔

یہ مظاہرہ عراق کے لئے عدم استحکام کی ایک نئی دھمکی کے طور پر سامنے آیا ہے جو قوم کے لئے داعش کے خلاف فتح کا اعلان کرنے کے محض دو سال بعد ہی ایک خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔

عراقی سیکیورٹی فورسز اور سرکاری عہدیداروں نے مزید تشدد سے بچنے کے عزم کا اظہار کیا اور بغداد کی سڑکوں پر بھاری نفری تعینات کردی۔ اس ماہ کے آغاز میں ہونے والے مظاہروں کی ابتدا تحریر اسکوائر مظاہرے کی طرز پر سوشل میڈیا پر منظم تحریک سے ہوا۔ مظاہرین ، جن میں زیادہ تر نوجوان ، بے روزگار تھے ، نے عراقی جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور نوکری ، پانی اور بجلی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت مخالف مظاہرے کیے ۔

“میں اپنے ملک کو واپس چاہتا ہوں ، میں عراق کو واپس چاہتا ہوں ،” عراقی وزارت تعلیم کے ایک ملازم ، 50 سالہ بان سومائڈائی نے کہا ، جس نے سیاہ جینز ، ایک سفید ٹی شرٹ پہنی تھی اور ہیش ٹیگ کے ساتھ عراقی پرچم اٹھایا تھا ۔

مظاہریں پرشگاف نعرے لگا رہے تھے، “بغداد آزاد ہے ، بدعنوانی ختم ہوچکی ہے۔”

وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے مظاہروں سے نمٹنے کی جدوجہد میں جمعہ کی صبح قوم سے خطاب کیا ، جس میں آئندہ ہفتے حکومت میں ردوبدل اور اصلاحات کا وعدہ کیا ۔ انہوں نے مظاہرین سے کہا کہ وہ پرامن مظاہروں کا حق رکھتے ہیں اور انہوں نے سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہروں کی حفاظت کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *